About Me

Responsive Ads Here

Saturday, February 23, 2019

اماں بابے دی بھلیائی

اماں بابے دی بھلیائی
By: zia, khi

Baba Bulleh Shah Poetry
Baba Bulleh Shah Poetry

اوہ ہُن کم اساڈے آئی 

امّاں بابا چور دھُراں دے، پُتّر دی وڈیائی 
دانے اُتوں گُت بگُتی گھر گھر پئی لڑائی 

اساں قضیے تداہیں جالے، جد کنک اوہناں ٹُرکائی 
کھائے خیراتے پھاٹیے جمعہ، اُلٹی دستک لائی 
بُلھّا طوطے مارباغاں تھیں کڈّھے، اُلّو رہن اُس جائی 

اوہ ہُن کم اساڈے آئی

ترجمہ:
امی ابو ازل سے چور ہیں اور بیٹے کی بڑائیاں بیان ہو رہیں ہیں
اناج کے اوپر ہر گھر میں ایسے لڑائی ہو رہی ہے جیسے عورتیں اک دوسرے کے بال پکڑ کے گتھم گتھا ہو جاتی ہیں
ہم تو اس خرابی میں اس وقت پھنسے جب انہوں نے گندم کھائی تھی
کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی اور ہے۔ یہ اس زمانے کا عجب الٹا رواج ہے
امی ابو کے نیک کام کئے اب ہمارے کام آ رہے ہیں
تشریح:
اصل میں بابا بلھے شاہ نے اس میں حضرت آدم و حوا کو موضوع بنایا ہے۔ کہ چوری اور حکم عدولی ہماری گھٹی میں ہے۔ ہم کیسے مکمل ہو سکتے ہیں جب ہمارے ماں باپ ہی خام تھے۔ گھر گھر میں جو اناج پر لڑائیاں ہیں یہ اسی وجہ سے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نے منع کرنے کے باوجود گندم کھائی تھی۔ اور اسی کا خمیازہ آجتک ہم بھگت رہے ہیں۔ انکے کیئے کاموں کا صلہ آجتک ہمیں مل رہا ہے۔

نوٹ: یہ میری سمجھ کے مطابق ہے۔ اس میں آپ لوگوں کو یقینا اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ محض سمجھانے کے لئیے ہے۔ ہر آدمی اپنی سمجھ کے مطابق ترجمہ کر لے۔

No comments:

Post a Comment