About Me

Responsive Ads Here

Saturday, February 23, 2019

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے


صرف اللہ کو اک جاننا ہی کافی ہے۔ یہ ایمان باقی سب سے رہائی دیتا ہے

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے
اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے



فر لکھ، کروڑ، ہزار ہوے
فر اوتھوں باجھ شمار ہوے
ایس الف دا نکتہ نیارا اے

اگرآپ اس عقیدے سے آگے نکلتے ہیں۔ تو بات پھر دو، تین چار سے ہوتی لاکھوں کروڑوں تک پہنچتی ہے۔اور یہی اس "الف" کی عمیق رمز ہے۔ میری نظرمیں بلہے شاہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو اس در کا بھکاری نہیں رہتا وہ پھر در در کا بھکاری بنتا ہے۔ بقول حضرت سلطان باہو
جنہاں حق نہ حاصل کیتا دوہیں جہانیں اُجڑے ہُو
غرق ہوئے وچ وحدت باہو ویکھ تِنہاں دے مُجرے ہُو


کیوں پڑھنائیں گڈھ کتاباں دی
سر چانائیں پنڈ عذاباں دی
اگے پینڈا مشکل بھارا اے

کیوں چہرے پر علمیت کا رعب سجائے دوسروں پر تحقیری نگاہ ڈالتے ہو۔ کیوں کتابوں کو دماغ اندر سمو کر اپنے آپ کو عالم سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ تو عذاب ہے۔ تم اس سے بچو۔ کیوں کہ آگے آنے والی راہ بہت کٹھن ہے۔ اور اسقدر وزن کے ساتھ تم اس پر نہ چل پاؤ گے۔

پڑھ ھڑھ کے صاف زبان کریں
پر نعمت وچ دھیان کریں
من پھردا دیوں ہلکارا اے

حافظ بنکر اتراتے ہو۔ رٹ رٹ کر بنا معانی جانے تمہاری اس کو پڑھنے کی روانی بھی قابل دید ہے۔ تم اک قاصد کی مانند اسکو لیئے پھرتے ہو۔ اسکو سمجھنے سے قاصر ہو۔ یہاں پر اک بڑا لطیف نقطہ قاصد کی تشبیہ کا ہے۔ کہ جیسے قاصد خط لے کر پہنچا دیتا ہے۔ پر وہ خط کے اندر کی عبارت سے ناآشنا ہوتا ہے۔ تو حافظ قرآن بھی حفظ کر کے ساری عمر دوسروں کو تو سنا رکھتا ہے۔ مگر اس کے اصل مفہوم سے ناآشنا رہتا ہے۔ بلہے شاہ فرماتے ہیں کہ اس نعمت کے اندر دھیان کی ضرورت ہے۔ نہ کے اس کو محض رتبے کے لیئے استعمال کیا جائے۔

No comments:

Post a Comment